سوشل میڈیا ایک قاتلانہ جال

سوشل میڈیا کی دنیا میں،جہاں آپ لوگوں کو اپنی کامیابیوں کے بارے میں پوسٹ کرتے ہوئے دیکھ سکتے ہیں کے وہ کہاں جاتے ہیں اورکیا کھاتے ہیں اور کس کے ساتھ اُن کی ملاقات ہوتی ہے جسے شیئر کرنا بُری بات نہیں وہ شاید اپنی سوشل میڈیا کی زندگی میں اتنے خوش نظر آتے ہیں جیسے اُن جیسا خوش قسمت کوئی نہ ہو لیکن ہم نا جانے کیوں یقین کرلیتے ہیں کہ اُن کی زندگیاں ایسی ہی ہیں جیسی وہ سوشل میڈیا میں دکھانا چاہتے ہیں۔ اب تو ہم صرف کیمرے کو دیکھ کے ہی مسکراتے ہیں اور دکھاوے کامسکرانا بھی سیکھ لیا ہے یعنی آنسو چھپانے میں ہنرمند ہوگئےہیں۔

جب سوشل میڈیا میں ہمیں پسند کیا جاتا ہے اور تبصرے ہونے لگتے ہیں تو ہم سمجھنا شروع ہو جاتے ہیں کہ ہم پتا نہیں کیا  شے بن گئے ہیں۔اکثر اوقات کامیاب لوگ بہت نا کامیوں کے سفر سے گزرتے ہیں اورہم اُن کی جدوجہد اورچیلنجز سے بےخبر ہوتے ہیں۔ ہمیں اُن کی کامیابیاں تو پسند ہوتی ہیں لیکن جن حالات سے وہ دوچار ہوکر اُس جگہ پر پہنچتے ہیں نا پسند ہوتی ہیں۔ہم اُن جیسا بننا تو چاہتے ہیں لیکن اُن جیسی محنت اور جدوجہد کرنا نہیں چاہتے۔ نا جانے اِس سفر میں اُن کے کتنے آنسو بہے ہوں اورراستے کتنے کٹھن ہوں لوگ کتنے ظالم ہوں اورکتنی بار وہ گرے ہوں۔اِن باتوں سے ہم لا علم ہو تے ہیں  لیکن جب آپ اُن لوگوں کو جاننا شروع کرتے ہیں پھر آپ کو معلوم ہوتا ہے کہ وہ کون ہیں اور یہ ویسے نہیں ہیں جیسے آپ اُنہیں سمجھتے تھے کیونکہ ہرسوشل میڈیا کی کہانی کا ایک اور پہلو بھی ہوتاہے۔

جب میں نے اپنا فیس بک اکاؤنٹ بنایا تھا جو ایک دہائی پہلے کی بات ہےاورمیں جب بھی فیس بک پر کچھ پوسٹ کرتا  تو میں انتظار کرتا کہ اُس کو کتنا پسند کیا جائے گااور کون میری پوسٹ کو لائیک دے گا اور اُس پرکیا تبصرے ہوں گے۔ اب فیس بک کے پاس مختلف اموجیز ہیں جن میں ہارٹ ، کیئر ، لائیک ، ناراض ، دکھ  جیسے انتخاب ہیں۔ اب یہ بھی جستجو رہتی ہے کے کتنے دل کے نشان ملے اور کتنے لائیک کےلیکن مجھے یہ شناسی ہوئی کہ میری زندگی سوشل میڈیا کی پسند اور تبصرے سے کہیں زیادہ قیمتی ہے۔میری زندگی کی قدر سونے اور چاندی سے کہیں زیادہ قابل قدر ہے۔میں خدا کے وسیلہ اور خدا کے لئے بنایا گیا ہوں اور میری قدرصرف اُسی سے ہے اور اُسی سے رہے گی۔

ایک سبق جو میں نے اپنے روزنامچےمیں تحریر کیا جو میں نے سیکھاہے(اگر آپ نے میرابلاگ  زندگی کی طرف پلٹ کر دیکھانہیں پڑھا تو اُسے بھی ضرور پڑھیں)  اور اپنے آپ کو یاد دلاتا رہتا ہوں کہ اپنے آپ کودوسرے لوگوں سے موازنہ نہ کروں کیونکہ یہ میرا کام نہیں ہے۔یہ میری سر درد نہیں ہے ۔یہ دوسرے لوگوں کی سردرد ہے لیکن اُنہیں اب میں کیسے روک سکتا ہوں؟ ہمارے معاشرے میں کہا جاتا ہے کہ لوگ کیا کہیں گے؟ حقیقت یہ ہے کہ لوگ کہیں گے ضرور۔لوگ اُسی کے بارے زیادہ بولتے ہیں جنہیں وہ اہم سمجھتے ہیں چاہے وہ بُرےہوں یا اچھے۔ آپ  یہ جان لیں کہ آپ کی زندگی کی قدرلوگوں سے نہیں بلکہ خدا کی طرف سے  ہے۔ آپ کی اپنی دوڑ ہےاور آپ کا اپنا سفر ہے۔ اگر آپ اپنے مقصد کو جانتے ہیں تو سفر میں منتشر نہ ہوں  بلکہ آگے  بڑھتے رہیں تاکہ منزل مقصود تک پہنچ سکیں ۔اگر آپ کسی شخص سے اپنا موازنہ کرنا چاہتے ہیں تو اُس شخص سے کریں جسے آپ روز آئینے میں دیکھتے ہیں۔ کیا آپ بہتر ہوتے جا رہیں ہیں یا بدتر؟آپ میں اچھی عادات نظر آرہی ہیں یا بُری؟کیا آپ وہ کام کر رہیں ہیں جس کے لئے خدا نے آپ کو بلایا ہے؟ عہد عتیق میں ایک عظیم قائد جس کا نام نحمیاہ ہے لکھتا ہے کہ میں بڑے کام میں لگا ہوں اور آ نہیں سکتا۔

جب سنبلّط اور طُوبیا ہ اور جشم عربی اور ہمارے باقی دُشمنوں نے سُنا کہ مَیں شہر پناہ کو بنا چُکااور اُس میں کوئی رخنہ باقی نہیں رہا (اگرچہ اُس وقت تک مَیں نے پھاٹکوں میں کواڑے نہیں لگائے تھے)۔تو سنبلّط اور جشم نے مُجھے یہ کہلا بھیجا کہ آ ہم اونو کے مَیدان کے کِسی گاؤں میں باہم مُلاقات کریں پر وہ مُجھ سے بدی کرنے کی فِکر میں تھے۔
سو مَیں نے اُن کے پاس قاصِدوں سے کہلا بھیجا کہ مَیں بڑے کام میں لگا ہُوں اور آ نہیں سکتا ۔ میرے اِسے چھوڑ کر تُمہارے پاس آنے سے یہ کام کیوں مَوقُوف رہے؟

نحمیاہ 6

جس کام کے لئے آپ بلائے گئے ہیں وہ بڑا کام ہے اس لئے آپ کو منتشر نہیں ہونا بلکہ کام کو جاری رکھنا ہے۔

 اگر آپ دوسرے لوگوں کی دوڑ دوڑیں گے تو یہ اپنے آپ سے نا انصافی ہوگی۔اگر ایسا ہی رہا تو آپ اپنی منزل مقصود تک نہیں پہنچ پائیں گے کیونکہ آپ کا دھیان اُن لوگوں پر ہوگا جن کا تعلق آپ کی دوڑ کے ساتھ نہیں اور نہ ہی اُنہیں کوئی پرواہ ہے کہ آپ کی زندگی کا مقصد کیا ہے اور خدا نے آپ  کو کس لئے بلایا ہے۔ جب آپ اپنے سفر کا موازنہ کسی اور سے کرتے ہیں تو آپ نہیں جانتے کہ آپ اپنے آپ کو کس قاتلانہ جال میں پھنسا رہے ہیں جوآپ کی ساری خوشی اور فتوحات کو دبوچ لیتا ہے

اپنے آپ کو دوسروں سے موازنہ کرنا چھوڑنے کے 7عملی طریقے۔ (یہ سات عملی طریقے  ڈیو رمزے  کی تحریر ہے)

شکرگزار رہنے کی مشق کریں

اپنی صلاحیتوں پر توجہ مرکوز کریں

اپنی زندگی کا موازنہ ہر ایک کی نمایاں سُرخی سے نہ کریں۔

دوسرے لوگوں کی خوشی منائیں

دوسروں کی بجائے اپنے آپ سے مقابلہ کرنا سیکھیں۔

آپ سوشل میڈیا پر کتنا وقت گزارتے ہیں اس کی حدود متعین کریں

سوشل میڈیا  کاروزہ رکھیں (کچھ دن  یا مہینے سوشل میڈیا سے دوری رکھنا تاکہ آپ اِس پر کنٹرول رکھیں نہ کہ یہ آپ پر)

آئیں ہم ایک  با مقصد زندگی بسر کریں اور دوسروں کے ساتھ موازنہ کرنا چھوڑ دیں اوران الفاط کو یاد رکھیں میں بڑے کام میں لگا ہوں اور آ نہیں سکتا۔

خداوند آپکو برکت دے۔

Leave a Reply