ڈان نیوز کے مطابق، 2025 کے پہلے چھ مہینوں میں چار ہزار سے زائد بچوں کے ساتھ زیادتی کے کیس درج کیے گئے ہیں۔ صرف بیٹیاں ہی نہیں بلکہ بیٹے بھی اِس درندگی کا شکار ہوئے ہیں اور یہ صرف پنجاب کی رپورٹ ہے۔ نہ جانے کتنے کیس ایسے ہیں جو درج ہی نہیں ہوتے کیونکہ ہم صحیح اور غلط کو نہیں دیکھتے بلکہ عزت اور شرمندگی کے چشمے سے فیصلے کرتے ہیں۔
ماریا شہباز جیسے بہت سے کیس ہیں جن کا انجام صرف الزام تراشی تک محدود رہ جاتا ہے۔ بہت دفعہ ہم مظلوم پر الزام لگاتے ہیں کے اُس کی غلطی تھی۔ تُم باہر کیوں گئی؟ تم نے یہ لباس کیوں پہنا؟
یہ سلسلہ بہت عرصے سے جاری ہے۔ اِس جدید دور میں بھی لوگ بیٹی کے مقابلے میں بیٹے کی پیدائش پر زیادہ خوشی مناتے ہیں اور پھر اِسی بیٹے پر توقعات اور ذمہ داریوں کا بوجھ ڈال دیتے ہیں تاکہ وہ مرد بن کر دکھائے یہی سوچ اُسے مجبور کرتی ہے کہ وہ اپنے خوابوں کو دبا کر زندگی کی دوڑ میں شامل ہو جائے۔ رفتہ رفتہ وہ جذباتی طور پر کمزور ہو جاتا ہے اور کبھی کبھی اپنی اِس کمزوری کا اظہار اپنے سے کمزور پر حملہ آور ہو کر کرتا ہے۔
سروے کے مطابق پاکستان میں صرف کمسن لڑکیاں ہی نہیں بلکہ کمسن لڑکے بھی محفوظ نہیں ہیں۔ تو سوال یہ ہے کہ اب سمجھایا کسے جائے بڑوں کو یا بچوں کو؟ شاید دونوں کو۔
شاید اب وقت آ گیا ہے کہ ہم ساتھ بیٹھ کر سوال بھی پوچھیں اور جواب بھی تلاش کریں۔ شاید لڑکے کو رونے کی اجازت دی جائے اور لڑکی کو دلیر ہونے سے نہ روکا جائے۔ ایسا ماحول بنایا جائے جہاں ایک دوسرے کو سُنا جائے اور عزت یا شرمندگی کے بجائے درست اور غلط کے معیار پر بات کی جائے۔
بچے محسوس کریں کہ وہ حادثاتی نہیں ہیں۔ اُنہیں معلوم ہو کہ اُن کی اپنی ایک قدر ایک پہچان اور ایک مقصد ہے اور وہ مقصد اہم ہے۔ وہ محسوس کریں کہ اُن کی موجودگی سے گھر والے خوش ہیں اور شکر گزار ہیں۔