سوال کو دفن نہ کیا جائے

زندگی ہمیں ایسی آزمائش میں ڈال دیتی ہے جہاں ہمیں چناؤ کرنا ہوتا ہے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں۔ کچھ دیر پہلے ہمیں ماریہ شہباز کی خبر ملتی ہے جو ایک کمسن بچی ہے جس کے بیاہ کو عدالت نے جائز قرار دیا ہے اور اس فیصلے سے ملکی قوانین کو نظر انداز کر دیا گیا ہے۔

اس فیصلے کی مذمت بنتی ہے لیکن ہمیں تعلیم کے نظام کو بہتر بنانا ہوگا اور والدین کو اپنے بچوں کے ساتھ اس پر بات چیت کرنا ہوگی۔ اگر آپ بات نہیں کریں گے تو پھر کوئی اور انہیں سمجھائے گا جس کی اقدار شاید آپ سے فرق ہوں۔ اِس لیے اُن کے ساتھ پیار اور اطمینان سے بات کریں تاکہ وہ آپ سے اپنے احساسات کا اِظہار کرنے میں خوفزدہ نہ ہوں۔

تعلیم ڈگریاں حاصل کرنے کا نام نہیں بلکہ اچھے لوگوں کو بنانے کا نام ہے جو معاشرے میں مثبت تبدیلی لے کر آتے ہیں۔ اب صورتحال یہ ہے کہ ڈگریاں حاصل کرنے والے تعلیم سے نا آشنا ہو گئے ہیں۔
آج کے دور میں جب ہمیں ترقی کی جانب جانا چاہیے ہم اُتنا ہی اپنے آپ کو پیچھے دھکیل رہے ہیں۔ لیکن ایک بات جو نئی نہیں وہ مذہب کو اپنے مفاد کے لیے استعمال کرنا ہے۔

اس لیے ہمیں جاننا ہوگا کہ ہم کہاں کھڑے ہیں۔ مغرب کا ایک محاورہ ہے کہ چاقو لے کر جنگ میں جانا جہاں بندوق کا استعمال ہو۔ ہمارا حال اب وہی ہے کہ ترقی یافتہ ممالک مریخ پر جانے کی تیاری میں ہیں اور ٹیک کی دنیا میں بہت آگے ہیں اور ہم یہ عام سی بات طے نہیں کر پا رہے کہ کم عمر بچے سے شادی جائز ہے یا نہیں۔

ہم ایسے دور میں ہیں جس میں بہت سی ثقافتیں ارتقاء کے عمل سے گزر کر بچوں کو حقوق دے چکی ہیں اور اب بھی سرگرم ہیں۔ ہم ہیں کہ آگے بڑھ نہیں رہے۔ پھر ہم دعوے کرتے ہیں اپنی ثقافت کے اپنے رہن سہن کے اور مغرب کو گالیاں نکالتے ہیں۔

اچھے اور برے لوگ ہر جگہ موجود ہیں اس لیے عدالتیں بنائی گئی ہیں تاکہ مظلوم جا کر اپنا انصاف حاصل کر سکے لیکن اب وہ بھی بہت کم میسر ہو رہا ہے۔ میں تصور نہیں کر سکتا کہ کیسے آپ قوانین کے مطابق اپنے انصاف کا مطالبہ کرتے ہیں لیکن اس سے بھی آپ کو درگزر کر دیا جاتا ہے۔

ہمارے ملک میں تعلیم تو ہے لیکن ایسا تعلیمی نظام نہیں جو زندگی کے حساس موضوعات پر بات اور بحث کر سکے جہاں سوال کو دفن نہ کیا جائے تاکہ جب لوگ کسی عہدے پر فائز ہوں تو ہر کیس کی اچھی طرح جانچ پڑتال کر سکیں۔

وہ تعلیمی ادارے جہاں سوال پوچھنے اور سوچنے کی صلاحیت کو تباہ کر دیا جاتا ہے وہاں ہمیں ڈگریوں والے مگر تعلیم سے نا آشنا لوگ ملیں گے۔ جہاں کے نامی استاد یہ جتاتے رہیں گے کہ ہمیں سب کچھ پتا ہے اور جو ہم کہتے ہیں وہی ٹھیک ہے اور وہاں کے حال کو خدا ہی بچائے۔
ہمارے بچوں کو اتنا کتابوں اور امتحانوں میں مصروف کردیا جاتا ہے کہ وہ جو سیکھا ہے اُسے عمل میں نہیں لا سکتے اور اِس سے اُن کی تخلیقی صلاحیت کو دفنا دیا جاتا ہے۔

Leave a Comment