‘میرا جسم، میری مرضی’

بی۔بی۔سی نیوز کے مطابق عورتوں کو عزت کے نام میں قتل کرنے کی صف بندی  کے ممالک میں پاکستان چوتھے نمبر پر ہے۔کچھ ہی دِنوں پہلے  عورت مارچ ہوا جس میں خواتین اور مردشامل تھے اِس عورت مارچ کی قیادت کرنے والوں میں قرات مرزا کا کہنا تھا ‘ہماری لڑائی ہماری پہچان کی لڑائی ہے’ اور ان کا موٹو ہے ‘میری پہچان میرا پہلا حق۔لیکن قرات مرزا کے مطابق یہ نعرہ صرف عورت پر تشدد کے خلاف ہی نہیں، بلکہ ہر اس انسان سے جڑا ہوا ہے جو معاشرے میں کسی بھی قسم کا تشدد سہتا ہے۔

میں عورت مارچ کے اِس مطالبے پر  کہ  مرد اور عورت برابر ہیں پر اتفاق کرتا ہوں کیونکہ مسیحی تعلیم کے مطابق ہر ایک کو خدا کی صورت پر بنایا گیا اور ہر ایک شخص اہم اور قیمتی ہے۔ اِس کے علاوہ اور بھی کچھ ایسے مطالبات تھے جن کی میں حمایت کرتا ہوں۔ لیکن میڈیا پر جس بات کو زیادہ شہرت مل رہی تھی وہ  ’میرا جسم، میری مرضی‘ کا نعرہ ہے۔ اِس جملے میں بہت زیادہ تضاد پایا جاتا ہے اسلئے کہ بہت سی چیزوں پر ہماری مرضی نہیں چلتی کیونکہ یہ ہماری مرضی نہیں ہوتی کہ ہم کس مُلک میں پیدا ہوں گے ، ہماری مرضی نہیں  ہوتی کہ ہمارے والدین کون ہوں گے یا ہمارے بہن بھائی اور رشتےدار کون ہوں گے۔ یہاں تک ہماری جنس کیا ہوگی اِس کا بھی ہمیں اختیار نہیں ہے اور نہ ہی کے ہمارا بلڈ گروپ کیا ہوگا۔ ایک معروف کالم نگار کا کہنا ہے کہ ’اگر میرا جسم،میری مرضی درست ہے تو پھر خودکشی حرام نہ ہوتی‘۔  اگر ایسا ہی چلتا رہا تو لوگ کہیں گے میری مرضی اگر میں معاف کروں یا نہ کروں، میری مرضی اگر میں قتل کروں یا نہ کروں۔

اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا ملک ترقی کرے اور ایک مہذب معاشرہ بنے تو ہمیں اِس سنہری اصول پر عمل پیرا  ہونا ہوگا کہ ’اپنے ہی احوال پر نہیں بلکہ ہر ایک دُوسرے کے احوال پر بھی نظر رکھے‘۔ کلامِ مقدس میں بہت سے ایسے حوالے ہیں جو اپنی خودی کا انکار کرنے کے اور دوسروں کی بھلائی کا کام کرنے کے ہیں جہاں پر یہ بھی مرقوم ہے کہ اپنے دشمنوں سے محبت رکھو اور اپنے ستانے والوں کے لئے دُعا کرو۔ لیکن اگر میں کہوں میرا  جسم، میری مرضی تو یہ ایک مناسب معاشرے کی تشکیل نہیں دے گا ۔اگر ہر ایک فرد دوسرے کی بھلائی کا سوچے اور اپنی بہتری نہیں بلکہ دوسرے کی بہتری پر غور کرے تو پھر ہمارا معاشرہ مہذب معاشرہ بنے گا اور یہ ایک ایسا معاشرہ بنے گا جس میں انسان کوانسان سمجھا جائے گا اور نیکی اور محبت کرنا ہمارا منشور بن جائے گا جو ہم انسانوں پر خدا کی طرف سے لازم قرار دیا گیا ہے۔

میرا احوال نہیں،تیرا احوال کو عام بنائیں۔

!خدا آپ کو برکت دے

حوالہ جات: فلپیوں۴:۲ ، ۱ کُرنتھیوں ۲۴:۱۰ ، ،متی ۴۴:۵

Leave a Reply