میرا کیا فائدہ؟

جو کوئی بھی حکومت میں آتا ہے وہ عوام سے یہ وعدہ کرتے ہوئے آتا ہے کہ وہ بے روزگاری اور غربت کا خاتمہ کر دے گا۔با اختیار لوگ دورِحاضرہ کے تمام مسائل کو حل کرنے کی تلقین کرتے ہیں یہاں تک کہا جاتا ہے کہ پاکستان کو فلاح  ترقی یافتہ ملک  جیسا بنا دیا جائے گا۔گزشتہ روز میں ایک تجزیہ کار کو سن رہا تھا جس کا کہنا تھا  کہ ہمارے ملک کا مسئلہ معاشی نہیں بلکہ اخلاقی ہے۔کیونکہ اخلاق اچھا ہوگا تو کرپشن نہیں ہوگی، ملاوٹ اور جعلی اشیا فروحت نہیں ہونگی۔  اب ہم کونسے پُر اثر اخلاق کو اپنی زندگیوں میں لاگو کر سکتے ہیں جو ہمارے ملک کی بہت سی مشکلات کو حل کر سکتا ہے؟کیونکہ ہم اپنے آپ کو مہذب اور باعزت اور خدا پرست معاشرہ سمجھتے ہیں تو اخلاقیات ہمارا مسئلہ کیسے ہوسکتا ہے؟۔کون ہمیں اخلاق سیکھا سکتا ہے؟

ہمیں ایک حقیقت کو سمجھنا ہوگا کہ اِس زمین پر جتنے بھی انسان ہیں یا جتنے بھی انسان تھے یا جتنے بھی انسان آئیں گے۔ہر ایک اِس بات کا مستحق ہے کہ اُس سے محبت کی جائے اور اُس کی عزت کی جائے اور اُسے ذاتی طور پر سمجھا جائے۔ ہر ایک اِنسان کا باطن یہی کہتا ہے کہ مجھ سے محبت کرو اور میری قدر کرو اور مجھ سے غلطی سر زد ہو بھی جائے  تو مجھے معاف کرنے کی طاقت بھی رکھو ۔ ہمارا ملک ترقی کی بلندیوں پر جائے گا اگر وہ انسان کی قدر و عزت کرنا شروع کر دےاور اُسے بِنا کسی ذات پات اور مذہب کے بغیر محبت رکھنا شروع کر دے۔

اگر کوئی فرد کسی بھی فرد کی تحقیر کرتا ہے تو وہ دراصل اپنی ہی تحقیر کرتا ہے۔ ہم اِنسان ناجانے کس فہمی میں جی رہیں ہیں کہ کسی کو نیچا دِکھانے سے ہم اونچے ہو جائیں گے؟لوگوں سے محبت اور اُن کی قدر کرنے کا  ایک مطلب یہ ہے کہ اپنے مفاد کی بجائے آپ اُن کے مفاد کے لئے کام کرتے ہیں۔انجیل میں ایک قول ہے کہ جو محبت نہیں رکھتا وہ خُدا کو نہیں جانتا کیونکہ خدا محبت ہے۔ ہمارے ملک کے بہت سے مسائل حل ہوسکتے ہیں اگر ہمارا اخلاقی اقدار محبت ہو۔کیونکہ محبت افضل ہے اور یہ لوگوں کی بہتری کے لئے حل خود ہی ڈھونڈ لیتی ہے۔

ہمارے ملک کا مسئلہ معاشی یا اقتصادی  نہیں بلکہ اخلاقی ہے اور یسوع مسیح کی زندگی سے ظاہر ہوتا ہے کہ محبت نہایت ہی اعلیٰ اخلاق ہے۔

خطیبانہ سوال:اگراِنسان اپنے لئے نہیں بلکہ دوسرے کے لئے جینا شروع کردے تو دُنیا کیسی ہوگی؟

Leave a Reply